Follow by Email

Tuesday, 8 July 2014



سحر سے شام رہتی ہے یہی مشکل   مرے آگے
کبھی رستہ مرے آگے کبھی منزل مرے آگے

کبھی ماضی کی وحشت ہے کبھی فردا کی دہشت ہے
مرا مقتل مرے پیچھے  مرا قاتل مرے آگے

نہ کچھ کہتے بنا مجھسے نہ کچھ کرتے بنا مجھسے
مرا د شمن مرے گھر میں ہوا داخل مرے آگے

سمندر کے بہت سے راز پنہا ہیں مرے دل میں
بہت سی کشتیاں ڈوبیں  سر  ساحل مرے آگے

مداوا  کر  مداوا  کر  مداوا  کر  محبّت کا
یہ کہکے پھوٹکر  رویا دل بسمل مرے آگے

مری دکھتی ہوئ رگ کو اچانک چھو  دیا تمنے
یہ کسکا ذکر لے آے سر محفل مرے آگے

ابھی بس خاک ہے خاشاک ہیں صحرا نوردی ہے
سفر کے بعد آےگا مرا حاصل مرے آگے

منش شکلا 

No comments:

Post a Comment