Follow by Email

Friday, 15 February 2019



غالب اور انکے احد کا لکھنؤ 

مرزا اسد الله خان غالب اردو ادب کا ایک ایسا درخشاں ستارہ ہے جسکی چمک اموماً تین صدی بعد بھی توانا بنی ہویی ہے اور جسکی تابانی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے .عام آدمی کی نظر میں مرزا غالب اور اردو شعاری  ایک دوسرے کے ہم معانی ہیں .

آج کے  اجتماع کا اہتمام   مرزا غالب  اور انکے احد کا لکھنو موضو پر بات کرنے کے لئے کیا گیا ہے. مرزا غالب پر اتنی باتیں ہو چکی ہیں کہ وہ کسی  تعارف  کے محتاج نہیں ہیں .ادب سے وابستہ ہر اک شخص غالب کے بارے میں اتنی معلومات رکھتا ہے جتنا شاید غالب بھی اپنے بارے میں نہیں رکھتے رہے ہونگے .

مرزا غالب اپنے آپ میں خود ایک احد ہیں . لکھنؤ کیا پورے ہندوستان کی تاریخ مرزا غالب کا احاطہ کیے بغیر نامکممل ہے . فلحال ہم مرزا غالب اور انکے احد کے لکھنو کا جائزہ  لینے کی کاوش کرتے ہیں.

جیسا کہ سب جانتے ہیں مرزا غالب کی پیدایش ٢٧ دسمبر ١٧٩٧ میں ہوئی تھی . اس وقت ہندوستان پر مغلوں کی حکومت  تھی اور. .......        بادشاہ تھے . اس وقت اودھ کا صوبہ مغل بادشاہ کے زیر حکم  تھا اور نواب وزیر علی اودھ کا انتظامیہ دیکھ رہے تھے . لکھنو ١٧٧٥ میں اودھ کی راجدھانی بنا دیا گیا تھا .تب نواب آسفدّولا اودھ کے نواب ہوا کرتے تھے .نواب وزیر علی انکے بعد ١٧٩٧ (غَلِب کی پیدایش کے سال ) میں اودھ کے نواب ہوے . غالب جب پانچ برس کے تھے تو انکے والد ایک   مغل سپہسالار کا  کام انجام دیتے ہوے  الور کی  جنگ میں شہید ہوے . غالب کی پرورش انکے چچا مرزا نصراللہ بیغ خان نے کی .١٣ برس کی عمر میں مرزا کی شادی امراؤ بیگم سے ہوئی اور وہ آگرا  سے دھلی  جا بسے .
کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب ١١ برس کی عمر سے ہی شعاری  کے میدان میں طبع آزمائی  شروع کر چکے تھے .یہ وہ وقت تھا جب لکھنو کا صوبہ نواب سعادت علی خان کی نوابی میں پھل پھول رہا تھا . اس وقت لکھنو کا صوبہ براے نام مغل سلطنت کا حصّہ ہوا کرتا تھا جو کہ ١٨١٩ تک مغل سلطنت کا صوبہ بنا رہا . ویسے اودھ کی حقومت کا حال بھی بہت اچھا نہیں تھا .نواب سعادت علی خان پر پورا قبضہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا ہوا کرتا تھا . سن ١٨٠١ سے ہی اودھ کا فوجی انتظام ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں میں  دیا جا چکا تھا . یہی وقت تھا جب غالب کی  شعاری  پروان چڈھہ رہی تھی اور مغل سلطنت کے پاے لڈکھڈا رہے تھے .ویسے تو مغل سلطنت کا زوال افغانی حملوں کے وقت سے ہی شروع ہو چکا تھا لیکن اس وقت تک مغلیہ سلطنت کے زیادہتر علاقے اسکے اقتدار سے باہر ہو چکے تھے اور مغل بادشاہ بس نام بھر کا بادشاہ رہ گیا تھا . یہ وقت مغلیہ تہذیب و وقار کے انتشار کا تھا . غالب کی شعاری  میں اس انتشار و زوال کے ساۓ جگہ جگہ نقش گزار ہوتے ہیں .اسی وقت اودھ کے صوبے نے مغل سلطنت سے ناتا توڑ کر نواب غازیلدین  حیدر کی کمان میں اپنے آزاد   وجود  کا  اعلان  کر دیا اور لکھنو اودھ کے آزاد بادشاہ کے زیر سایہ ایک عظیم  تہذیبی  اور ادبی مرقز کی شکل میں ابھرنے لگا .
اس وقت مغلیہ سلطنت کی چمک ماند پڑ رہی تھی اور اودھ ایک آزاد سلطنت کی عظمتیں حاصل کرنے کی راہ پر مائل ہو رہا تھا . ادب, تہذیب, موسیقی , تعمیر , تعلیم سبھی معاملوں میں مغل سلطنت کی برابری کرنے کا جوش اودھ کے حقمرانوں کے دل میں امڈ رہا تھا جو پورے قووت سے اودھ اور لکھنو کی تہذیب کو پروان چڑھانے میں لگے ہوے تھے .بڑے بڑے موسیقیکار , ادیب , شاعر , معمار اودھ کے بادشاہ کی پناہ میں سکوں اور آرام کے ساتھ اپنی اپنی تخلیق انجام دے رہے تھے . لکھنو میں ایک سے ایک نایاب عمارتوں کی تعمیر ہوئی , محفلیں پروان چڈھیں اور شعر و ادب کے نیے  نیے معرکے سر ہوے .
جیسا  کہ دیکھ  چکے  ہیں  یہ  وقت  دہلی  کے  ادبی  ماحول  کے  زوالپزیر  ہونے  کا تھا . غالب ان حالات میں اپنی  شعری کاوشوں کو انجام دینے میں لگے ہوے تھے اور ذاتی زندگی کے صدمات سے بری طرح مغموم تھے . ایک کے بعد ایک ٧ اولادوں کو کھونے کا غم ,معاش کی قلّت ,سلطنت کی خراب ہالی سے وابستہ اپنی خستہ حالیاں اور روز در روز بیرونی طاقت کا مغلیہ سلطنت پر کستا ہوا شکنجہ غالب کو پریشان کیے ہوے تھا . یوں تو استاد ذوق کے بعد بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے انہیں اپنا اور شاہزادے مرزا فخرو کا استاد منصوب کر دیا تھا اور دبیر ال ملک اور نجمدّولا کے خطاب سے انہیں نوازا تھا پھر بھی اس جنّت کی حقققت سے غالب اچھی طرح سے واقف تھے .

جب دہلی کی تہذیبی روایتیں اپنی آخری سانسیں گن رہی تھی  تب  لکھنو ادیبوں اور کلاونتوں کے لیے با  یس تسکین پناہ گاہ ثابت ہو رہا تھا .میر تقی میر ٦٠ برس کی عمر میں دہلی چھوڑکر لکھنو آ چکے تھے اور نواب آسفدُّلا کی کرم فرماں سعادتوں کے طفیل اپنی زندگی کچھ حد تک سکوں سے گزارتے ہوے اپنی شعاری میں لگے ہوے تھے. میر کی لکھنو میں موجودگی کی وجہ سے لکھنو کی اردو شعاری خاص طور پر غزل کی شعاری کو نئی شوین میسّر ہوئیں .یوں تو لکھنو میں اردو شعاری کی با قائدہ شروعات سرراج الدین خان آرزو(١٦٨٧- ١٧٥٦ )اور مرزا محمّد رفیع سودا(١٧١٣  -١٧٨١ )کی آمد کے ساتھ ہو چکی تھی  لیکن غالب کے احد تک لکھنو میں میر بابر علی انیس , مرزا سلامت علی دبیر ,غلام ہمدانی مصحفی ,شیخ امام بخش ناسخ ,مرزا حیدر علی آتش اور پنڈت دیا شنکر  نسیم جیسے آلہ درجے کے شعرہ کے کلام نے وہ چکاچوندھ پیدا کی جس سے ادبی دنیا کی آنکھیں چندھیا گین .
مرثیہ خوانی میں انیس اور دبیر نے وہ جوہر دھخلاہے کہ آج تک اردو ادب ان پر اش اش کرتا ہے .
اس وقت مصحفی لکھنو کی غزل گوئی کو پاروں چڈھا رہے تھے اور اردو غزل کو مزید اونچاییں بخش رہے تھے .کہا جاتا ہے کہ دکنی ,ریختہ ,ہندوی کو اردو کہنے کا چلن مصحفی سے ہی شروع ہوا . اسکے پہلے انشا الله خان انشا لکھنو کی غزل کے نوک پلک سوارنے کا کار انجام دے چکے تھے .
غالب کے احد کا یہ وہ وقت تھا جب ناسخ لکھنوی غزل کو نئی طب و تاب اتا کر رہے تھے اور حقیم مہدی سے جھگڑا مول لے کر لکھنو چھوڑنے پہ مجبور ہوے تھے .حقیم مہدی کے انتقال کے بعد ناسخ پھر لکھنو لوٹ آ ے تھے . اسی وقت ناسخ کے ہم اثر مرزا حیدر علی آتش اپنے خوبصورت کلام سے اردو غزل کی زلف سنوارنے میں پوری شدّت سے لگے ہوے تھے . ناسخ اور آتش کی آپس میں رقبت چلتی تھی .ان دونوں کی شعاری لکھنو غزل کا سنہرا احد  گولڈن  ایرا تسلیم کی جاتی ہے .
اس دوران مرزا شوق اور پنڈت دیا شنکر نسیم مسنوئع کے میدان میں اپنے جوہر دکھلا رہے تھے .نسیم کی مصنوئی گل بکاولی مسنائی شعاری میں ایک آلہ مقام رکھتی ہے . انکے علاوہ اس وقت لکھنو میں کئی دیگر شعار ہ اپنے کلام سے لکھنو کو سرشار کر رہے تھے جنکی تفصیل مقالے کی تنگ دامنی کی وجہ سے دینا ممکن نہیں ہو پا رہا ہے . 
یہ  وہ دور تھا جب دہلی کی آب و ہوا بگڑی ہوئی تھی اور غالب اپنی اور دہلی کی خستہ ہالی کے درمیان اردو شعاری کو اپنے لہو سے سینچ رہے تھے . دہلی میں استاد ذوق کا بول بالا تھا اور غالب سے انکی لاگ ڈاٹ چلتی تھی .غالب کی شعاری میں جگہ جگہ اس رقابت کی پرچھاییاں نظر آتی ہیں ....بنا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا ...
اسی وقت لکھنو کے دو عظیم شاعر انیس اور دبیر بھی اپنی اپنی انا کی تلواریں لئے ہوے بر سر پیکار تھے . لکھنو  کے انکے شاگردوں میں بھی آپس میں جھگڑے چلتے رہتے تھے .اسی طرح ناسخ اور آتش کی ادبی رنجشیں قہوہ خانوں کی بات چیت کا مرقز بنی رہتی تھیں .
یہ ایک عجیب بات ہے کہ  دہلی کی زوال پزیر فضا میں بھی وہی انا کے جھگڑے ادیبوں میں چل رہے تھے جو لکھنو کی خوش حال اور تراققیآفتا تہذیب میں رواں  تھے .

لکھنو میں اس وقت گائیکی کی ایک نیے طرز ٹھمری اپنے عروج پر پہنچ رہی تھی .موسیقی کی محفلوں سے اودھ کی شامیں گلزار تھیں اور شریفزادے توایفوں کے پاس شرفاء کے آداب سیکھنے جایا کرتے تھے . پتنگبازی ,بٹیر بازی اور تیتر بازی  زوروں پر تھی . امیر عمرہ شطرنج کی بساتوں میں مصروف رہا کرتے تھے . توایف بازی رؤسا کا ایک اہم شغل تھا .لیکن یہ رنگ ریلیاں بہت دن تک قایم نہ رہ سکیں . جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے رفتہ رفتہ ایسٹ انڈیا کمپنی اودھ  کے صوبہ کو اپنے فولادی شکنجوں میں جکڑتی جا رہی تھی . اس وقت کمپنی کا منشا پورے اودھ کو ہڑپنے کا تھا . ١٨٥٦ میں نواب واجد علی شاہ گرفتار کر لئے گئے اور صوبہ اودھ میں کمپنی کا عمل قایم ہو گیا . پورا اودھ اس سانحے سے مغموم و مایوس ہو گیا اور ماحول میں ایک عجیب سا انتشار پیدا ہو گیا .

ادھر ١٨٥٧ میں میرٹھ میں غدار کا بغل بج اٹھا جسکی آواز بہت جلد دہلی تک پہنچ گئی اور باغی فوجوں نے ضعیف بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پرچم تلے کمپنی کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا . بہت جلد پورا جنوبی ہندوستان غدر کی چپیٹ میں آ گیا . لکھنو نے بھی تباہی اور لوٹ کا خوفناک منظر دیکھا .لکھنو کی ادبی اور پسکوں فضا تار تار ہو گیی .محفلیں اجڈ گیں اور شعاری کچھ وقت کے لئے خاموش ہو گیی لیکن شعار وں کی تخلیق جاری رہی .
یہ وہ وقت تھا جب مرزا غالب نے اپنے بہترین کلام سے اردو شعاری کو علم و تصوّف کی دنیا میں الا مقام بخشا . ادھر انیس ,دبیر ,ناسخ ,آتش ,مصحفی ,ناطق , دیاشنکر نسیم جیسے شعرہ نے لکھنو کی شعاری کا پرچم پوری دنیا میں بلند کیا .
غالب نے مغل سلطنت کی تباہی ,بادشاہ کی گرفتاری اور ظلہ وطنی اور شاہزادوں کے قتل کے منظر دیکھ تو اسی وقت لکھنو نے اپنے جان عالم کی گرفتاری اور ہجرت کا ماتم منایا . دہلی اور اودھ پر  سیدھے برطانیہ کی  حقومت  کا  آغاز ہوا . غالب غدر کے بعد لگبھگ ١٢ برس حیات رہے. لیکن یہ وقت انکی لکلیفوں اور فاقاکشی کا تھا اور سخت علالت کے عالم میں غالب ١٥ فروری ١٨٦٩ کو اس فانی دنیا کو آلود ا ع  کہ گئے . غالب کے پیچھے پیچھے انیس اور دبیر بھی اپنی تخلیق کا کام جاری رکھتے ہوے عالم فانی سے کوچ فرما گئے . ناسخ ,آتش ,دیاشنکر نسیم , مصحفی وغیرہ غدر کی بدحالی دیکھنے سے پہلے ہی آنکھیں موند چکے تھے .
اسکے بعد سن ١٨٧٧ میں لکھنو اور مغربی صوبوں کو یکجا کر کے نارتھ ویسٹ پروونس اینڈ اودھ کے صوبہ کی بنیاد رکھی گیی . سن ١٩٢٠ میں غالب کے آگرا اور اودھ کا مستقبل یکجا ہو گیا جسے یونایٹڈ پروونس کہا گیا اور لکھنو اسکا مرقز بنا .
منیش شکلا 

Thursday, 30 August 2018



کوئی  تیرا  یہاں   ثانی   نہیں  ہے 
کہ سب میں آگ ہے پانی نہیں ہے 

تجھے پانے کے سب اسباب ہیں پر 
تجھے  پانے  کی آسانی  نہیں  ہے 

محبّت میں   خسارہ   تو  بہت  ہے 
مگر  اتنی  بھی  ارزانی  نہیں  ہے 

ابھی  ساحل  پہ  کشتی  مت   لگاؤ 
ابھی  ساحل  پہ  طغیانی  نہیں  ہے 

پریشانی   یہی    ہے   در  حقیقت 
ہمیں   کوئی   پریشانی   نہیں  ہے 

تری  ہر  بات  ہے  تسلیم   ہم  کو 
یہ  بھولاپن   ہے  نادانی نہیں ہے 

تہیہ    کر  چکے  ہیں خامشی  کا 
ہمیں   اب  داد   فرمانی  نہیں  ہے 

کئی   اشعار   تیرے    قیمتی  ہیں 
مگر  کوئی  بھی  لا ثانی نہیں ہے 

منیش' اب غیر ممکن ہے سلجھنا' 
اگرچہ   بات    الجھانی   نہیں  ہے 






Friday, 3 August 2018

عشق   میں   اتنا  خسارہ    کیوں   کیا   تھا 
آپ  نے    پردہ   گوارا     کیوں    کیا    تھا 

آپ  تو  ہم   کو   سمندر  میں   ملے   تھے 
آپ    نے   ہم  سے   کنارہ  کیوں   کیا  تھا 

آپ  کو   سننا    گوارا    کیوں   نہیں   تھا 
آپ  نے   چپ  کا   اشارہ  کیوں  کیا    تھا 

روشنی چبھنے  لگی  آنکھوں  میں  دن کی 
رات   نے    تنہا    گزارا    کیوں  کیا   تھا 

آپ   کا سجدہ    مکمّل    کیوں   نہیں    تھا 
آپ   نے   سجدہ     دوبارہ  کیوں  کیا   تھا 

آپ  کے     اب ہوش   کیا    باقی    رہینگے 
آپ   نے   اپنا      نظارہ    کیوں  کیا   تھا 

آپ  کا خود  پر  کوئی    اب   حق  نہیں  ہے 
آپ   نے   خود   کو   ہمارا   کیوں  کیا  تھا 

آپ  تو   خود    کو    بخوبی   جانتے   تھے 
آپ    نے    اپنا     سہارا     کیوں   کیا   تھا 

جان   لینے   کی   اگر   خواہش  نہیں  تھی 
وار    پھر    اتنا    کرارا    کیوں    کیا   تھا 
منیش شکلا

Wednesday, 11 July 2018



منیش شکلا 
٨/٤ 
ڈالی باغ  آفیسرس کالونی 
لکھنؤ 
٢٢٦٠٠١



محترم جناب شمس الرحمان  فاروقی صاحب 

پرخلوص آداب 

 بعد سلام سب سے پہلے معذرت کہ اتنی تاخیر سے آپکو سلام  پیش کرنے کی ہمّت
 جٹا پایا  - میں آپکا دل کی گہرائیوں  سے شکرگزار  اور  ممنون  ہوں کہ   آپ  نے
 مجھ جیسے نو پیدا تخلیق کار کی ناقص  کتاب " روشنی جاری کرو"  پہ اپنا  بیش
 قیمت وقت دے  کر اظہار  راۓ  کی  زحمت  فرمائی  -آپکو  برسوں سے  پڑھ  رہا
 ہوں اور آپکی بین ا لاقوامی شخصیت اور علم سے آشنا ہوں - میرے لئے آپکےیہ 
چند الفاظ کتنا  بڑا  اثاثہ  ہیں  میں  بتا  نہیں  سکتا   -آپکے  ایک خط نے مجھے
 کتنا حوصلہ عطا  کیا  ہے  میں  بیان نہیں کر سکتا  -  کبھی  خواب  میں  بھی نہیں
 سوچا تھا کہ آپکے  دست مبارک  سے لکھا  ہوا خط مجھے  موصول   ہوگا  - الله 
 -آپکو صحتیاب  رکھے اور آپکی عمر   دراز  کرے -  آپ  ہمارے وقت کا اثاثہ  ہیں
 گزارش ہے کہ اپنے ذہن  کے کسی گوشے میں مجھے بھی جگہ  دے دیجییگا اور 
میرے واسطے دعا کیجیےگا  کہ میں اس انتشار زدہ  دنیا  میں ٹھیک  ڈھنگ  سے
 جینے کی صلاحیت حاصل  کر سکوں  اور اگر اوپر والے نے  مجھے  شاعری  کا 
- فن عطا   کیا  ہو  تو اسکو  آخری  حد  تک  پہنچا کے دنیا سے رخصت ہو سکوں
 ایک  بار  پھر آپکا  دل  کی گہرائیوں  سے  شکریہ کہ  اپنے مجھے  اپنی   توجھ 
  کے لایق  سمجھا  - انشا الله  کسی  روز  آپکے  رو برو  سلام  پیش  کرنے آپکی 
- بارگاہ میں حاضر ہوتا ہوں

ممنون و مشکور 
آپکا  


منیش شکلا 
لکھنؤ 

Tuesday, 10 July 2018



پالکی   روک   لو  بہاروں   کی 
آخری   شام   ہے  نظاروں   کی 

اب  سبق  حفظ  ہو  گیا   ہم   کو 
اب  ضرورت  نہیں  اشاروں کی 

اس  میں پربت کا دل پگھلتا ہے 
یہ   کہانی   ہے   آبشاروں  کی 

راستہ  بھی  ہے  خارزاروں  کا 
منزلیں  بھی  ہیں خارزاروں  کی 

ہم  ستارے  بھی  توڈ لاتے تھے 
شرط  رکھتے تھے ماہپاروں  کی 

خود  کو ایسے اداس مت رکھیے 
جان   جاتی  ہے غم گساروں  کی 

 جانثاری    کی   بات    کی  جاۓ 
یہ  ہے   توہین     جانثاروں   کی 

آپ  خود کو سنبھال   کر  رکھیے 
آپ  تصدیق   ہیں   بہاروں    کی 

اب  سحر  تک  اداس  رہنا   ہے 
روشنی   بجھ   گیئ شراروں کی 
منیش 


Friday, 6 July 2018



کہانی  کو  کہاں  منظور  تھے  ہم 
مگر  کردار  کیا  بھرپور  تھے ہم 

وہاں  ہونا   پڑا  ہے  سر  بسجدہ 
کشیدہ  سر  جہاں مشہور تھے ہم 

اب آنکھیں  ہی نہیں اٹھتیں ہماری 
بہت  دن تک بہت مغرور  تھے ہم 

وہ قد قامت  تمھارے ساتھ ہی تھا 
تمھارے  بعد  چکناچور  تھے  ہم 

تمہارے  بعد  روشن  ہو  گئے ہیں 
تمھارے  سامنے  بےنور تھے ہم 

تمھیں  ہم  شکریہ بھی کھ نہ پاے 
تمھارے  اس قدر مشکور تھے ہم 

مداوا  ہی  نہیں  ممکن  تھا  کوئی 
اک ایسے زخم  کا ناسور  تھے ہم 
منیش 

Thursday, 28 June 2018



गुज़ारी उम्र पियाला ओ  मय बनाने में।
फिर आग हमने लगा दी शराबख़ाने में.

ख़ुद आपने आप को हम देख ही नहीं पाए ,
हमारा ध्यान लगा ही रहा ज़माने में।

सब अपने आप को ढूँढा किये बहर सूरत ,
हम अपना आप सुनाते रहे फ़साने में।

तुम्हारी  याद सताएगी उम्र भर हमको ,
ज़रा सा वक़्त लगेगा तुम्हें भुलाने में।

यूँ एक पल में ज़मींदोज़ मत करो हमको ,
हज़ारों  साल  लगे हैं  हमें  बसाने  में।

ख़ुद अपने आप के कितना क़रीब आ पहुंचे ,
हम अपने आप को तेरे क़रीब लाने में।

हमारी तिशनादहानी  का कारनामा है ,
लगी हैं ओस की बूँदें नदी बनाने में।

बहुत तवील था क़िस्सा गुनाह ए अव्वल का ,
सो एक उम्र लगा दी तुम्हें सुनाने में।

हमारी बात में कुछ दिलफ़िगार शिकवे हैं,
वगरना उज्र नहीं था तुम्हें बताने में।

सजाने।  बिताने। बताने