Follow by Email

Tuesday, 28 March 2017

آنکھوں کو پر نم حسرت کا دروازہ وا رکھا ہے
اپنے ٹوٹے خواب کو ہم نے اب تک زندہ رکھ

عشق کیا تو ٹوٹ کے جی بھر نفرت کی تو شدّت سے ,
اپنے ہر کردار کا چہرہ ہم نے اجلا رکھا ہے .

جو آیا بازار میں وہ بس جانچ پرکھ کر چھوڈ گیا ,
ہم نے خود کو سوچ سمجھ کر تھوڑا مہنگا رکھا ہے .

تھا اعلان کہانی میں اک روز ندی بھی آےگی ,
ہم نے اس امید میں خود کو اب تک پیاسا رکھا ہے .

ہم کو ہر چہرے کے پیچھے سو سو چہرے دکھتے ہیں ,
قدرت نے آنکھوں میں جانے کیسا شیشہ رکھا ہے .

اکثر شیریں کی چاہت نے کوہ کنی کروائی ہے ,
اکثر پربت کے سینے پر ہم نے تیشہ رکھا ہے .

ہم کو اب خود رستہ چل کر منزل تک پہنچےگا ,
کاندھوں پر سورج ہے اپنے سر پر سایہ رکھا ہے .

ہم سے باتیں کرنے والے الجھن میں پڑ جاتے ہیں ,
ہم نے اپنے اندر خود کو اتنا بکھرا رکھا ہے .

تم نے لہجہ میٹھا رکھ کر تیکھی باتیں بولی ہیں ,
ہم نے باتیں میٹھی کی ہیں لہجہ تیکھا رکھا ہے .

دنیا والوں نے تو پوری کوشش کی ٹھکرانے کی ,
لیکن اپنی ضد میں ہم نے خود کو منوا رکھا ہے
منیش شکلا

No comments:

Post a Comment