Follow by Email

Tuesday, 29 October 2013

اتنی شدّت سے طلب کرتے ہیں ہم
ایک زرے کو بھی رب کرتے ہیں ہم

جانے کیوں اکثر یہ لگتا ہے ہمیں
کام سارےبے سبب  کرتے ہیں ہم

زندگی کو آج تک سمجھے نہیں
  اب تلک نام و نسب کرتے ہیں ہم

آرزو ہمکو تبسّم کی مگر
آنسوں کا بھی ادب کرتے ہیں ہم

جن زمینوں پر کوئی چلتا نہیں
ان زمینوں پر غضب کرتے ہیں ہم

کیا ہوا؟ ہوگا؟ ہوا جاتا ہے کیا؟
اسکی کچھ پروا ہی کب کرتے ہیں ہم

لوگ حیرانی سے تکتے ہیں ہمیں
کام ہی  ایسے  عجب کرتے ہیں ہم

بھول جاینگے تمہے ہر حال میں
یہ  ارادا  روز و شب کرتے ہیں ہم
 منش شکلا







No comments:

Post a Comment