Follow by Email

Tuesday, 29 October 2013

خیالوں کا فلک احساس کے تاروں سے جڑنے میں
ہوئے ماہر ہم اپنے درد سے الفاظ گدھنے میں 

ہمیں کچھ اور کرنے کی تو مہلت ہی نہ مل پایئ 
ہوا ضایع ہمارا وقت بس ملنے بچھڑنے میں 

کہیں برسوں میں جاکر کھل کا سامان جت پایا 
مگر اک پل لگا اچھا بھلا مجمع اکھڈنے میں 

کوئی لمحہ نہیں ایسا کہ جو ہاتھوں میں آیا ہو 
گیئ ہے عمر ساری عمر کی تتلی پکڑنے میں 

ہم اپنے جرم کا اقبال تو ویسے بھی کر لیتے 
بہت عجلت رہی تمکو مگر الزام مڈھنے میں 

کہیں پیری میں جاکے عشق کا مطلب سمجھ پاے 
لگی اک عمر ہمکو عاشقی کا درص پڑھنے میں 

اجڑنے کا بہت افسوس ہے لیکن ستم یہ ہے 
تمہارا ہاتھ شامل تھا مری دنیا اجادنے میں 

حواس بچتی ہے سر پر عشق کا الزام لینے سے 
محبّت اف نہیں کرتی کبھی سولیپہ پہ  چڈھنے میں 

کیسے دریا کی حاجت ہےکسے سیراب ہونا ہے؟
مزہ  آنے لگا  اب ریت    پر ایڈی رگدنے میں 

منش شکلا 





No comments:

Post a Comment