Follow by Email

Saturday, 1 April 2017



آخری بیانوں میں اور نہ پیشخوانی میں
ہم کہیں نہیں آتے آپ کی کہانی میں

اخللات کرنوں کا اوپری دکھاوا تھا
سبز ہو گئے سارے رنگ گہرے پانی میں

ان سے تم اکیلے میں گفتگو کیا کرنا
لفظ دے کے جاینگے ہم تمھیں نشانی میں

آج وہ پری چہرہ بات کر گیا ہم سے
نام تک نہیں پوچھا ہم نے شاد مانی میں

اک دفع گئے تو پھر لوٹ کر نہیں آیے
چوک ہو گی ہم سے اپنی میزبانی میں

تم ذرا سے زخموں سے تلملاہے بیٹھے ہو
سر کٹا ے بیٹھے ہیں لوگ حق بیانی میں
منیش شکلا

No comments:

Post a Comment