Follow by Email

Saturday, 1 April 2017




وقت پیغام کا نہیں شاید
اب مرض نام کا نہیں شاید

اس کا چاہا نہ کچھ ہوا اب تک
دل کسی کام کا نہیں شاید

اب صحیفے زمیں سے اگتے ہیں
دور الہام کا نہیں شاید

بات اٹکی ہے آ کے صحبت پر
مسلہ شام کا نہیں شاید

خامشی کی طناب ٹوٹی ہے
شور کہرام کا نہیں شاید

عشق کرنا تباہ ہو جانا
کام انعام کا نہیں شاید



No comments:

Post a Comment