Follow by Email

Friday, 16 June 2017


مضمھل  روشنی کا کیا کرتے؟
کچھ دے تیرگی کا کیا کرتے؟

ہمکو دیوانگی کی حاجت تھی
ہم بھلا آگاہی کا کیا کرتے؟

عشق کا حوصلہ تو تھا دل میں
پر تری بےرخی  کا کیا کرتے ؟

ہمکو دریا ہی کب فراہم تھے؟
ہم بھلا تشنگی کا کیا کرتے؟

گر تری آرزو نہ کی ہوتی
تو بتا زندگی کا کیا کرتے؟

   پیاس اپنی قبول تھی لیکن
اسکی تشنلابی کا کیا کرتے ؟

بس کہ کٹتے رہے خموشی سے
یہ کنارے ندی کا کیا کرتے؟

جرّت عاشقی بجا لیکن
غیرت عاشقی کا کیا کرتے؟

سر جھکانے میں نفع تھا لیکن
فطرت سرکشی کا کیا کرتے؟

منش شکلا

رات کی بےبسی کا کیا کرتے؟

نور کی کمسنی کا کیا کرتے؟

 رات کی دشمنی کا کیا کرتے؟

رات کی بے دلی  کا کیا کرتے؟






No comments:

Post a Comment