Follow by Email

Saturday, 25 June 2016

               غزل

   جانے کس شے کے  طلبگار ہوئے جاتے ہیں

کھیل ہی کھیل میں بیمار ہوئے جاتے ہیں


قافلہ درد کا چہرے سے گزر جاتا ہے

ضبط   کرتے ہیں تو اظہار ہوئے جاتے ہیں


کون سے خواب سجا بیٹھے ہیں ان آنکھوں میں

کن امیدوں کے گرفتار ہوئے جاتے ہیں


دن گزرتا ہے عبث رات گزر جاتی ہے

رفتہ رفتہ یوں ہی بے کار ہوئے جاتے ہیں


راستے جو کبھی ہموار نظر آتے تھے

دیکھتے دیکھتے دشوار ہوئے جاتے ہیں


توبہ کرنا جو ضروری ہے عبادت کے لئے

تو خطا کرکے گنہگار ہوئے جاتے ہیں


جتنا کھلتے ہیں ادھر اتنی گرہ پڑتی ہے

ہم کہ ہر روز طرحدار ہوئے جاتے ہیں


کوئی گھٹتا ہی چلا جائے ہے پیہم ہم میں

اپنے اوپر ہی گرانبار ہوئے جاتے ہیں

منش  شکلا  

No comments:

Post a Comment